November 18, 2019

پیرا میڈیکس کی ہڑتال، مریض خوار!

پختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی نوجوان ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ہڑتال جاری ہے، یہ ہسپتالوں کی نیم خود مختاری کے قانون کے خلاف سراپا احتجاج اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ابھی تک صوبائی حکومتوں اور پیرا میڈیکس سٹاف کی مشترکہ کمیٹی سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو پائے کہ حکومت قانون واپس لینے سے انکاری ہے اور پیرا میڈیکس نے ہڑتال ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے،پنجاب میں 19ویں روز میں داخل ہو چکی ہے،حکومت نے اس صورتِ حال کو سنبھالنے کے لئے نئے ڈاکٹر بھرتی کرنے اور مظاہرین کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی اور اب تک دو ڈاکٹر اور بعض دوسرے کارکن برطرف بھی کئے گئے ہیں،اس پر مزید ردعمل ہوا اور احتجاج میں شدت آ گئی،اس طبی عملے نے سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور اور آپریشن تھیٹر بند کرا دیئے ہیں، صرف ایمرجنسی میں کام ہوتا ہے اور اب دھمکی دی گئی ہے کہ مطالبات نہ مانے گئے تو ایمرجنسی بھی بند کرا دی جائے گی۔ہمارے سٹاف رپورٹر کی اطلاع کے مطابق برطرفیوں اور اظہارِ وجوہ کے نوٹس کے ردعمل میں گرینڈ ہیلتھ الائنس نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بھی آپریشن رکوا دیئے،انجیو گرافی، انجیو پلاسٹی، ایکو گرافی، تھیلیم سکین اور لیبارٹری بند کرا دی ہیں۔یوں بائی پاس آپریشن بھی رُک گئے اس سے مریضوں کی جان کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں،الائنس کے عہدیداروں ڈاکٹراعجاز کھرل، ڈاکٹر ذیشان،حافظ دلاور اور ظہیر احمد نے کہا کہ اگر کسی مریض کی جان گئی تو ذمہ دار ہیلتھ سیکرٹری ہوں گے۔ ہیلتھ الائنس نے نعرہ بازی کی اور سڑک روک کر مظاہرہ بھی کیا۔ پی آئی سی میں اس حد تک ہڑتال تاریخ کا پہلا واقعہ ہے اور یہ احتجاج ایک نرس کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس دیئے جانے پر کیا گیا۔پیشہ طب ایک مقدس فرض کے طور پر پہچانا جاتا ہے کہ یہ انسانی صحت اور جان بچانے والا ہے، لیکن دُکھ کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں عرصہ سے احتجاج کا جو طریقہ شروع ہوا اسی پر پیرا میڈیکس والے بھی عمل پیرا ہیں،نہ صرف ضرورت مند مریضوں کا علاج بند کر دیا جاتا ہے،بلکہ سڑکیں بند کر کے عوام کوبھی پریشان کیا جاتا ہے۔اکثر ایمبولینسیں بھی ٹریفک جام میں پھنس جاتی ہیں، احتجاج کا یہ سلسلہ رُکتا نہیں یہ بہت ہی غیر مناسب ہے۔ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو غورکرنا چاہئے کہ وہ انسانی خدمت اور جان بچانے کا حلف اٹھاتے ہیں اِس لئے ان کو علاج سے گریز نہیں اختیار کرنا چاہئے، اب اگر امراضِ قلب کے ہسپتال میں مریضوں کی حالت غیر ہوئی اور ان کی جان اِس لئے گئی کہ بروقت علاج نہ ہو سکا تو یہ ”قتل“ ہی کے مترادف ہو گا،اِس لئے حکومت کو بھی میسر اقدامات کرنا چاہئیں کہ نظام بہتر ہو سکے۔ عوام کی خواہش یہ ہے کہ یہ ہڑتال ختم ہو اور علاج شروع ہوں، پہلے ہی سرکاری ہسپتالوں کے حوالے سے شکایات عام ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ

2019-11-02 21:12:01

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *